خوشا اے دل ، الم کی یہ فراوانی مبارک ہو
عطائے عشق ہے جو بھی پریشانی، مبارک ہو
وہ جلوہ عکس ہے، معکوس ہے، خود آئنہ ہے وہ؟
تحیر دل کو آنکھوں کو یہ حیرانی مبارک ہو
چلی آئی ہوں دنیا چھوڑ کر، تیری غلامی میں
مرے دل کی مرے شاہا، یہ سلطانی مبارک ہو
تجھے اے دل بھلا بزمِ طرب سے لینا دینا کیا
ہے نسبت قیس سے تجھ کو، بیابانی مبارک ہو
کہاں کا سہل تھا تسخیر کرنا سنگ کو، آخر
کیا ہے موم جس نے، آنکھ کا پانی مبارک ہو
تمہی تھے نا، رہائی کی دعا دیتے تھے لوگوں کو
سنا ہے عشق کے تم بھی ہو زندانی، مبارک ہو
اِسی ہنگامے پر موقوف ہے بس زندگی اپنی
جو برپا کی ہے دل نے، حشر سامانی مبارک ہو
زباں سے کب کہا جاتا اسے ، حالِ دروں اُس پر
ہے کھولا جس نے، زخمِ دل کی عریانی مبارک ہو
حصار ان بازؤں کا ہے حفاظت کے لیے نسریں
میسر ہے اُن آنکھوں کی نگہبانی ، مبارک ہو
